نئی دہلی، 14؍ مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) پارلیمنٹ کے اجلاس کا دوسرا مرحلہ ایسے وقت میں شروع ہوگا جب ابھی کچھ دن پہلے ہی بی جے پی نے یوپی، اتراکھنڈ، گوا اور منی پور اور اے اے پی نے پنجاب میں اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔
پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ آج سے شروع ہو رہا ہے، جس میں اپوزیشن بڑھتی ہوئی بے روزگاری، ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ پر سود کی شرح میں کٹوتی اور جنگ زدہ یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کو نکالنے سمیت کئی معاملات پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ بجٹ تجاویز کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کرنا اور مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے لیے بجٹ پیش کرنا حکومت کے ایجنڈے میں سرفہرست ہوگا۔
وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن جموں و کشمیر کا بجٹ پیش کریں گی اور دوپہر کے کھانے کے بعد کی کارروائی کے دوران ایوان میں اس پر بحث ہو سکتی ہے۔ حکومت نے آئین (شیڈولڈ ٹرائب) آرڈر (ترمیمی) بل کو لوک سبھا میں غور کرنے اور پاس کرنے کے لیے بھی درج کیا ہے۔ بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلے میں 29 جنوری سے 11 فروری تک لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی دو مختلف شفٹوں میں چلائی گئی۔
تاہم اس بار کووڈ-19 سے متعلق صورتحال میں بہتری کی وجہ سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی صبح 11 بجے سے ایک ساتھ چلے گی۔پارلیمنٹ کے اجلاس کا دوسرا مرحلہ ایسے وقت پر شروع ہوگا جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اتر پردیش، اتراکھنڈ، گوا اور منی پور اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) پنجاب میں اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔
اس سے قبل بجٹ اجلاس کا پہلا مرحلہ 29 جنوری کو پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں صدر رام ناتھ کووند کے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے ساتھ شروع ہوا، جس کے بعد اقتصادی سروے پیش کیا گیا تھا۔